Posts

سوشل میڈیا کے دور میں علمائے اہل سنت کی ذمہ داریاں | ایک علمی اور دعوتی رہنمائی

Image
کتبہ: الماس نوری عطاری (متعلّم: جامعۃ المدینہ فیضانِ مخدوم، لاہوری، موڈاسا گجرات) سوشل میڈیا کے دور میں علمائے اہل سنت کی ذمہ داریاں آج سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے۔ اس دور میں علمائے اہل سنت سے دینی مسائل دریافت کرنے کے بجائے ہماری مسلمان عوام سوشل میڈیا پر مسائل تلاش کرتی ہے، اور نتیجتاً سرفہرست بد مذہبوں، گمراہ فرقوں اور غیر مقلدوں کی ویب سائٹس سامنے آتی ہیں، جن کی تحریریں عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ ایسے پرفتن دور میں علمائے اہل سنت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ میدانِ قلم میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور اپنی تحریروں کے ذریعے سنی ویب سائٹ کا ساتھ دیں، اپنے مضامین شائع کرائیں، کیونکہ بد مذہبوں کا رد جس طرح تبلیغ اور تقریر کے ذریعے ہوتا ہے، اسی طرح تحریر کے ذریعے بھی ہوتا ہے، اور دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے دشمن جس میدان میں ہو، اس میدان میں ہمیں اترنا پڑے گا۔ مثلاً اگر کسی بد مذہب نے قصائی کی دکان (Mutton Shop) کھولی اور ہم صرف تقریر میں کہیں کہ وہاں سے گوشت نہ خریدو، تو ہم کتنے لوگوں کو روک پائیں گے؟ اور کب تک ہم ہر گاہک کو جا کر روک سکیں ...

سیرتِ مفتی محمد قاسم دامت برکاتہم العالیہ | علمی اصلاحی اور روحانی خدمات کا جائزہ

Image
کتبہ: محمد مناظر حسین ، کٹیہار ، بہار (3 محرم الحرام 1447 ہجری) سیرت مفتی محمد قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیہ آپ کی ولادت باسعادت 6 جون 1977عیسوی کو فیصل آباد (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔آپ کا اسمِ گرامی محمد قاسم ہے، لقب شیخ الحدیث والتفسیر اور مفتی اہل سنت ہے، جبکہ کنیت ابو صالح ہے۔ حضرت مفتی صاحب کا اندازِ زندگی انتہائی حیرت انگیز رہا ہے۔ آپ ایک مضبوط حافظ قرآن اور کہنہ مشق مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ ہیں۔ عصری تعلیم: آپ نے گریجویشن اور ایم اے پارٹ ون کے امتحانات دیے اور فرسٹ ڈویژن حاصل کی، لیکن دینی مصروفیات کے باعث آئندہ امتحانات نہ دے سکے۔ دینی تعلیم: 1992 میں آپ نے حفظ شروع کیا اور فیضانِ مدینہ فیصل آباد سے تقریباً پونے دو سال کی قلیل مدت میں مکمل کیا۔ 1994 میں درسِ نظامی میں داخلہ لیا۔ آپ نے جامعہ رضویہ فیصل آباد، جامعہ قادریہ، جامعہ نظامیہ لاہور میں تعلیم حاصل کی اور بالآخر جامعہ رضویہ فیصل آباد میں ہی شیخ الحدیث حضرت علامہ غلام نبی صاحب سے دورۂ حدیث مکمل کیا۔ اساتذہ کرام: آپ کے اساتذہ میں جن ممتاز شخصیات کے اسماء شامل ہیں، وہ...

جامعۃ المدینہ موڈاسا | ایک روحانی اور علمی قلعہ

Image
کتبہ: الماس نوری عطاری (متعلّم: جامعۃ المدینہ فیضانِ مخدوم، لاہوری، موڈاسا گجرات) جامعۃ المدینہ مڈاسہ کا روحانی ماحول الحمد للہ! اس پرفتن دور میں دعوتِ اسلامی انڈیا علومِ دین کی خوب احسن انداز میں ترویج و اشاعت میں مصروفِ عمل ہے، اور اس کے لیے باقاعدہ ایک مجلس بھی قائم ہے: مجلسِ جامعۃ المدینہ۔ اس کے تحت ملک بھر میں کئی جامعات المدینہ چل رہے ہیں، جہاں طلبہ کی علمی و روحانی تربیت کی جاتی ہے۔ انہیں میں سے ایک ہمارا جامعۃ المدینہ فیضانِ مخدوم، لاہوری، موڈاسا بھی ہے۔ جامعۃ المدینہ موڈاسا صرف علم کا مرکز نہیں، بلکہ روحانیت، اصلاحِ نفس، اخلاقی تربیت اور سنتوں کا ایک مضبوط قلعہ ہے۔ روحانیت سے بھرپور صبح کا آغاز یہاں کئی خوش نصیب طلبہ نمازِ تہجد کے لیے بیدار ہوتے ہیں اور رحمتِ خداوندی کے مستحق بنتے اور دعائے مصطفیٰ ﷺ سے فیضیاب ہوتے ہیں، چنانچہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا ترجمہ: اے اللہ! میری امت کے لیے ان کی صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔ [ابو داؤد، السنن، حدیث: 2606، دار السل...

پیر و مرشد کے حقوق | شیخ کامل کی پہچان اور مقام

Image
کتبہ: محمد امان ، اودےپور راجستھان (متعلم: جامعۃ المدینہ، فیضانِ مخدوم لاہوری، مڈاسا۔ درجہ : دورۃ الحدیث) پیر و مرشد کے حقوق آج کے دور میں شریعت کے احکام پر عمل کرنا مشکل سے مشکل تو ہوا جا رہا ہے جہاں نگاہ دوڑائی جائیں فتنہ فساد و ایمان کے لٹیرے نظر آتے ہیں ایسے میں بندے کو ایک شیخ کامل ( پیر کامل) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ شیخ اپنے مرید کے ایمان کی حفاظت کریں اور اس کے ظاہر کو پاک و صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی حفاظت کریں۔ فی زمانہ ہر کوئی اپنے آپ کو پیر بنا بیٹھا ہے اور وہ فاسق ہوتے ہیں یا ان کا سلسلہ حضور ﷺ تک نہیں پہنچتا اہسے میں بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ بیعت کس سے لی جائے پھر اگر بیعت لے لی تو پیر کی تعظیم ضروری اور فاسق کی توہین لازم۔ آئیے ہم جانتے ہیں کہ آخر کار پیر کون ہوتا ہے اور اس کے کیا کیا حقوق ہے۔ پیر و مرشد کی تعریف بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں۔ پیر کامل وہ ہے جس میں یہ چار شرائط پائیں جائے۔ (1) شیخ کا سلسلہ باتصال صحیح ( درست واسطوں کے ساتھ تعلق) حضور ﷺ تک پہنچتا ہو۔ بیچ میں کہی منقطع (جدا) نہ ہو کہ منقطع کے ذریعے ات...

حق اور باطل میں فرق | دیوبندی عقائد بمقابلہ اہلِ سنت کا موقف

Image
کتبہ: الماس نوری عطاری (متعلم: جامعۃ المدینہ، فیضانِ مخدوم لاہوری، مڈاسا۔ درجہ : سادسہ) حق اور باطل میں فرق بعض لوگ بےباکی اور لاعلمی کی وجہ سے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ، بھائی! سب ٹھیک ہیں، دیوبندی لوگ بھی تو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، دین کا کام کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ تو ان کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ، پیارے بھائی! چور کبھی ظاہر نہیں کرتا کہ وہ چور ہے۔ بلکہ چور اپنے آپ کو ایسا بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ کوئی گمان ہی نہ کر پائے کہ وہ چور ہے۔ جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، ان کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ ایک بار آپ ان بد عقیدوں کی ان عبارتوں کا مطالعہ کریں، اور بغور مطالعہ کریں، جن میں انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ، حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام، ملائکہ اور انبیاءِ کرام کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔ تو اگر آپ انصاف بھرے دل سے مطالعہ کریں گے تو آپ یقیناً ان کو گمراہ کہیں گے۔ اور ہمارا دیوبندیوں یا ان جیسے گمراہ لوگوں سے جو اختلاف ہے، وہ اس وجہ سے تھوڑی نہ ہے کہ یہ لوگ فاتحہ نہیں کرتے، سلام نہیں پڑھتے۔ بلکہ ان لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف اور صرف انہی عبارتوں کی ...

نوجوان اور شہوت

Image
کتبہ: محمد مناظر حسین ، کٹیہار ، بہار (22 ذی الحجہ 1446 ہجری) نوجوان اور شہوت شہوت نے کہا آج کل میں بہت طاقتور ہو گئی ہوں ، ہے کسی میں دم تو کر دکھائے کم۔ میں جب اپنے پر آ جاتی ہوں ، عقل پر غالب ، کبھی کبھی دین تک چاٹ جاتی ہوں ۔ میری ہی وجہ سے کتنی عزتیں نیلام ہوئیں ، کتنے مقدمے ، فسادات رونما ہوئے ، یہاں تک کہ جانوں سے کھلواڑ بھی کرا دیتی ہوں۔ فیسبک ، انسٹاگرام ، کچھ یوٹیوب چینلز اور سب سے پہلے اسکرین ٹچ موبائل میرے لیے دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے ہی ذکراللہ ، استغفار ، خوف خدا کی گونج آتی ہے میں بے بس ہو کر رہ جاتی ہوں ۔ پہلے زمانہ کے راہبین نے نکاح نہ کرنے کی ٹھان لی تھی، میرے لیے وہ کھلونا بن گئے ۔ کسی کی عزت پر پانی ، تو کسی کی جان تک داؤ پر لگادی ۔ ایک مشہور راہب کا قصہ تو شاید آپ بھی جانتے ہوں گے ، کہ شہوت نے اس کو بدکاری میں بری طرح پھنسا کر، اس کا ایمان کھا کر ، موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ جب کہ بعض نے عین وقت پر توبہ کر کے میرا گلا گھونٹنے جیسی آفت کھڑی کر دی ۔ کس طرح کے جوان نرغے میں آتے ہیں ؟ بارہ سے اٹھارہ کی عمر والے کو پہلے پکڑتا ہوں ، جب پندرہ کو قد...

صلح کرانے کی فضیلت و اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل مضمون

Image
کتبہ: محمد کامران رضا گجراتی صلح کرانے کی فضیلت و اہمیت اسلام ایک ایسا دین ہے جو سراپا امن، محبت، بھائی چارے اور صلح و آشْتی کا درس دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں بارہا مسلمانوں کو آپس میں محبت اور اتفاق سے رہنے، ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر افسوس! آج کے دور میں مسلمان ان روشن تعلیمات کو بھول بیٹھے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن بن چکا ہے۔ رشتہ داروں میں نااتفاقی، بھائیوں میں عداوت، خاندانوں میں نفرت، اور دلوں میں کینہ و بغض نے جگہ بنا لی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر دوستوں، بھائیوں، رشتہ داروں یا خاندانوں کے درمیان نااتفاقی ہو جائے، تو ہمیں ان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن و حدیث میں کئی مقامات پر صلح کروانے کی فضیلت اور اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مسلمان بھائیوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے اور نفرتوں کو ختم کرنے کے لیے ان میں صلح کرائیں اور اس عظیم عمل کے ذریعے اللہ کا قرب اور ثواب حاصل کریں۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ وَاِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْ...