نوجوان اور شہوت

نوجوان اور شہوت
کتبہ: محمد مناظر حسین ، کٹیہار ، بہار (22 ذی الحجہ 1446 ہجری) نوجوان اور شہوت شہوت نے کہا آج کل میں بہت طاقتور ہو گئی ہوں ، ہے کسی میں دم تو کر دکھائے کم۔ میں جب اپنے پر آ جاتی ہوں ، عقل پر غالب ، کبھی کبھی دین تک چاٹ جاتی ہوں ۔ میری ہی وجہ سے کتنی عزتیں نیلام ہوئیں ، کتنے مقدمے ، فسادات رونما ہوئے ، یہاں تک کہ جانوں سے کھلواڑ بھی کرا دیتی ہوں۔ فیسبک ، انسٹاگرام ، کچھ یوٹیوب چینلز اور سب سے پہلے اسکرین ٹچ موبائل میرے لیے دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے ہی ذکراللہ ، استغفار ، خوف خدا کی گونج آتی ہے میں بے بس ہو کر رہ جاتی ہوں ۔ پہلے زمانہ کے راہبین نے نکاح نہ کرنے کی ٹھان لی تھی، میرے لیے وہ کھلونا بن گئے ۔ کسی کی عزت پر پانی ، تو کسی کی جان تک داؤ پر لگادی ۔ ایک مشہور راہب کا قصہ تو شاید آپ بھی جانتے ہوں گے ، کہ شہوت نے اس کو بدکاری میں بری طرح پھنسا کر، اس کا ایمان کھا کر ، موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ جب کہ بعض نے عین وقت پر توبہ کر کے میرا گلا گھونٹنے جیسی آفت کھڑی کر دی ۔ کس طرح کے جوان نرغے میں آتے ہیں ؟ بارہ سے اٹھارہ کی عمر والے کو پہلے پکڑتا ہوں ، جب پندرہ کو قدم رکھتا ہے ، اس…